بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || جنگ رکنے اور سمجھوتے کے باوجود، امریکہ نے ایران پر دباؤ اور دشمنانہ کارروائیاں جاری رکھیں اور اس دوران کئی بار ملک کے جنوبی علاقوں اور آبنائے ہرمز کے آس پاس کے مقامات کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا۔ ان حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کے نزدیک جنگی جھڑپوں کا خاتمہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تنازع کے خاتمے کے مترادف نہیں ہے! یہ سرگرمیاں ایسے اثناء میں جاری ہیں کہ جنوبی ایران اپنی تزویراتی حیثیت اور آبنائے ہرمز سے قربت کی وجہ سے ایران اور امریکہ کے مابین تنازع کے اہم ترین میدانوں میں سے ایک ہے۔
اگرچہ امریکہ کے ہر حملے کا ایران کی مسلح افواج نے فیصلہ کن اور طاقتور جواب دیا ہے، لیکن اس دوران اہم سوال یہ ہے کہ امریکہ جنوبی ایران پر حملے جاری رکھ کر کیا کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے، اور آبنائے ہرمز اب بھی اس کی پالیسیوں میں مرکزی حیثیت کیوں رکھتا ہے؟ ماہرین اس سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ ان سرگرمیوں کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ فوجی حملوں کو بدامنی پھیلانے کی کوششوں، نفسیاتی جنگی کارروائیوں اور علاقائی سلامتی اور معیشت کے فارمولوں پر اثرانداز ہونے سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔

سیاسی امور کے ماہر مرتضیٰ سیمیاری نے ان اقدامات کے مقاصد کی وضاحت کرتے ہوئے نامہ نگاروں کو بتایا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد، امریکہ نے آبنائے ہرمز کے علاقے میں بدامنی پھیلا کر یہ تصور قائم کرنے کی کوشش کی کہ یہ آبی گذرگاہ اب بھی مکمل طور پر کھلا ہے اور تیل کی ترسیل کا سلسلہ بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہے۔
ان کے مطابق، امریکی محدود اور منظم اقدامات کا ایک سلسلہ چلانا چاہتے تھے تاکہ بدامنی پھیلانے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کی صورت حال کا اپنا مطلوبہ خاکہ عالمی رائے عامہ اور منڈیوں کے سامنے رکھ سکیں۔
انھوں نے جزیرہ لارک کے خلاف امریکیوں کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان امریکی اقدامات کو اسی سیاق و سباق میں دیکھا جا سکتا ہے۔
انھوں نے کہا: امریکہ کا ایک اور مقصد یہ تاثر قائم کرنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کے نگرانی اور کنٹرول مراکز کو نقصان پہنچا ہے اور اس علاقے پر کنٹرول برقرار رکھنے کی ایران کی صلاحیت کم ہو گئی ہے۔
سیمیاری نے زور دے کر کہا: ان امریکی اقدامات کا ایرانی جواب محض دفاعی سطح تک محدود نہیں ہؤا، بلکہ دشمن فریق کے لئے لاگت - فائدہ (Cost benefit) کا قاعدہ قائم کرنے کے مقصد سے ان اقدامات سے تعلق رکھنے والے فوجی مراکز، اڈوں، ہتھیاروں اور ساز وسامان وسائل کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس تجزیہ کار کے مطابق، جو کچھ جنوبی ایران میں جاری ہے، وہ ایک ترکیبی جنگ (Hybrid Warfare) کا حصہ ہے جس میں فوجی کارروائی، دہشت گردانہ سرگرمیاں اور نفسیاتی جنگ سب یکجا، شامل ہیں۔ یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جس کا حتمی مقصد ایران کی تسدید ((Absolute deterrence)) کو کمزور کرنا اور آبنائے ہرمز کی سلامتی کی ترتیب پر اثر ڈالنا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ